Showing posts with label urdu_corner. Show all posts
Showing posts with label urdu_corner. Show all posts

Thursday, 25 June 2015

India Wins Freedom an Autobiography by Maulana Abul Kalam Azad.




India Wins Freedom an Autobiography by Maulana Abul Kalam Azad. Maulana Azad was born in 1888 and died in 1958. His real name was Firoz Bakht at birth but was known in his youth as Muhiuddin Ahmad and later adopted the pseudonym of “Abul Kalam Azad. He was descended from a family which came from Heart to India in the time of Zaheer ud Din Babar and among his ancestors were well-known scholars and administrators. Two years after his birth in 1888 in Mecca where his father Maulana Khairuddin had migrated after the 1857 Revolt, the family moved and settled in Calcutta. Azad was educated at home by his father and by private tutors. His political awakening was stimulated by the partition of Bengal in 1905.
Maulana Azad travelled extensively in Ira, Egypt, Turkey and France and had planned to visit London but his father’s illness obliged him to return home in 1908. Azad started the Urdu weekly magazine Hilal at Calcutta in July 1912. He opposed the Aligrah line of remaining aloof from the freedom movement. With the outbreak of war in Europe in 1914, the journal was banned under the press Act. He then started another Urdu weekly Al-Balagh, also from Calcutta, in November 1915, and this continued to be published, until March 1916, when Azad was externed under the Defence of India Regulations. The government of Bombay, Punjab, Delhi and the united Provinces banned his entry, and he went to Bihar. He was interned in Ranchi until 1st January 1920.
After his release Azad was elected President of the All India Khilafat Committee ( at the Calcutta session, 1920 ), and of the Unity Conference at Delhi in 1924. He presided over the Nationalist Muslim Conference in 1928. He was elected President of the Indian National Congress in 1923, and again in 1940, and continued to hold this office until 1946. He led the negotiations on behalf of the Congress Party with the British Cabinet Mission in 1946. Later he joined free India’s first government as Minister for Education, a post he held until his death on 22 February 1958.
Among his other published work are Al-Bayan (1915), Tarjuman ul Quran (1033-36) which are commentaries, Tazkirah (1916) an autobiographical work and Ghubar e Khatir (1043),a collection of letters, all in Urdu.
India Wins Freedom book described the complete autobiography and history of Maulana Abul Kalam Azad in English language. Click on the below mentioned link to download the complete book in Pdf format for offline reading.


 India Wins Freedom by Maulana Abdul Kalam Azad

Qasas-ul-Anbiya in Urd pdf



Qasasul Anbiya by Hazrat Emad-ud-Din Muhammad Bin Ismail r.a well known as Imam Ibne Kaseer r.a. is a famous book containing stories of the Prophets.This book is translated in Urdu By Allama Mufti Abu Saleh Muhammad Faiz Awaisi.This book contains defferent stories of the Prophets which have lessons for everyone .Here you can download Qasas-ul-Anbiya in Urd pdf.
Find more Books in Pdf format free of cost from http://fforfunn.blogspot.com/ or read online All types of books on internet free 
 
 Qasas-ul-Anbiya by Imam Ibn-e-Qaseer Pdf Download

Aao Pehla Qadam Dharaty Hain By Umera Ahmad



Umaira Ahmad is one of the great and famous novel writer in Pakistan. She is not just a novelist also screen writer. She is very famous in Pakistan for her Urdu novels like La-Hasil, Peer-e-kamil and many other best novels of her. She also works as English lecturer for O level and A level in Army public College Sialkot. One of her famous Novel “Aao Pehla Qadam Dharaty Hain” is given below. If you want more Urdu novels then kindly tell us by commenting below in the comment box. We will try our best to fulfill your choice.
Find more Books in Pdf format free of cost from http://fforfunn.blogspot.com/ or read online All types of books on internet free


 

Wednesday, 24 June 2015

لیکن گزشتہ 50 سال سے اس جزیرے پر کوئی جرم نہیں ہوا

اسکاٹ لینڈ کا جزیرہ کنا اگرچہ کم آبادی پر مشتمل ہے لیکن گزشتہ 50 سال سے اس جزیرے پر کوئی جرم نہیں ہوا


ایڈن برگ: دنیا میں شاید ہی کوئی ملک یا جگہ ایسی ہو جہاں جرائم نہ ہوتے ہوں اس لیے ہم آپ کو ایسی جگہ کا نام بتارہے ہیں جہاں سالوں میں تو کیا 5 دہائیوں تک کوئی جرم نہیں ہوا تھا لیکن ایک چور نے وہاں موجود دکان لوٹ کر یہاں کی تاریخ ہی بدل ڈالی۔
اسکاٹ لیند کےعلاقے ہیبری ڈین کے 26 افراد پر مشتمل چھوٹا سا جزیرہ سکون اور امن کی مثال ہے جہاں کئی دہائیوں سے لوگ چوری اور ڈکیتی سے بے خبر زندگی گزار رہے ہیں، گزشتہ 50 سال تک اس جزیرے پر کوئی جرم نہیں ہوا لیکن اب پانچ دہائیوں بعد چوروں نے اس خوبصورت اور پرامن وادی کی نصف صدی کی تاریخ کو سیاہ داغ لگا دیا اور جزیرے پر موجود واحد جنرل اسٹور کا سارا سامان لوٹ کر لے گئے۔ جزیرے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ چوری کے بعد اس کی رپورٹ لکھوانے کے لیے وہاں کوئی پولیس اسٹیشن بھی موجود نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق چوروں نے جزیرے کی واحد دکان سے ٹافیاں، چاکلیٹ، کافی، صابن، بسکٹس اور دیگر کھانے پینے کی اشیا پر ہاتھ صاف کیا گیا ہے اور اس میں موجود کیش کو ہاتھ تک نہیں لگایا اس کے علاوہ چور جاتے جاتے دکان کی مالکن کی ہاتھ سے اون کی بنی ٹوپیاں بھی لے اڑے۔ دکان پر تحائف، ہاتھ سے بنی اشیا اور جنرل آئٹم بیچے جاتے ہیں جب کہ اس دکان کو جزیرے کے بنے ہوئے کنا کیمونٹی ڈویلپمنٹ ٹرسٹ چلاتا ہے، دکان 24 گھنٹے کھلی رہتی ہے اور جب کسی گاہک کو کچھ چاہئے ہوتا ہے وہ چیز لے کر اسے وہاں موجود رجسٹر پر رقم لکھ کر اس میں رکھ کر چلا جاتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق اس جزیرے پر آخری بار جرم 1960 میں ہوا تھا جب ایک چور نے یہاں موجود چرچ سے لکڑی سے بنی پلیٹ چوری کرلی تھی جس کا آج تک پتا نہ چل سکا۔ چوری پر تبصرہ کرتے ہوئے دکان کی مالکن کا کہنا تھا کہ انہیں اس چوری سے صدمہ ہوا ہے جس نے علاقے کی ایمانداری کے تصورکو متاثر کیا ہے جب کہ اس واقعے کے بعد وہ یہاں سی سی ٹی وی کیمرہ لگانے کا سوچ رہے ہیں لیکن یہ وہ ایسا کرنا بھی نہیں چاہتے کیوں کہ یہ ایمانداری کے تصور کے خلاف ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی کتاب کو آسٹریلیا کی نیوساؤتھ ویلز لائبریری میں

کتاب کی لمبائی 1.8 میٹراورچوڑائی 2.7 میٹر ہے جب کہ کتاب کا وزن 150 کلو گرام ہے۔


کینبرا: دنیا کی سب سے بڑی کتاب کو آسٹریلیا کی نیوساؤتھ ویلز لائبریری میں پڑھنے کے لئے رکھ دیا گیا ہے۔
اٹلس گینٹ نامی یہ کتاب آسٹریلیا کی اسٹیٹ لائبریری نیوساؤتھ ویلزکے ریڈنگ روم میں رکھی گئی ہے جس کی لمبائی 1.8 میٹر اورچوڑائی 2.7  میٹر ہے جب کہ کتاب کا وزن  150 کلو گرام ہے اورکتاب 4 ہفتوں تک لائبریری میں عوام کے پڑھنے کے لئے دستیاب رہے گی۔ کتاب کے بانی گورڈن چئیرزکا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی کتاب بنانے کے بارے میں انہوں نے 25 سال قبل سوچا تھا جسے مکمل کرنے میں 4 سال کا عرصہ لگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سیارے کی پیمائش ناپنا آسان نہیں ہوتا لیکن یہ کتاب پیمائش کے بارے میں بھی کافی مدد گار ہے۔ اس کتاب کے 128 صفحات پر100 سے زائد بین الاقوامی کارٹوگرافرز، جیوگرافرزاورفوٹو گرافرزکوجب کہ 61 صفحات پرنقشے اورمختلف مشہور تصاویر شامل کی گئی ہیں جو کہ ایک ہزارانفرادی تصاویر کو ملا کر بنائی گئی ہیں اور صفحات پلٹنے کے لیے بھی اسٹاف کی ضرورت پڑتی ہے۔

برازیل کے جزیرے ماراجو میں پانی میں رہنے والے سینگ والے سانڈ

انھیں یہ خوف بھی ہوتا ہے کہ مزاحمت کرنے سے یہ سانڈ بے قابو ہوکر اور خطرناک ہوجائیں گے


ماراجو برازیل: برازیل کے جزیرے ماراجو میں پانی میں رہنے والے سینگ والے سانڈ وہاں کے باشندوں کی زندگیوں کا ایک لازمی حصہ بن گئے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے سائز کے اس جزیرے میں ان سانڈ کی تعداد ساڑھے چارلاکھ تک پہنچ چکی ہے جہاں یہ سانڈ کوڑاکرکٹ بھی اٹھاتے ہیں، فیسٹیول میں ان کی ریس بھی ہوتی ہے اور ان کے دودھ سے پنیر تک بنائی جاتی ہے اور اب وہاں کے پولس والے پٹرولنگ کے لیے بھی ان سانڈھوں کا استعمال کرنے لگے ہیں ۔
پولس افسران کا کہنا ہے کہ پانی کے یہ سانڈ کتوں سے اچھے تیراک ہیں اور اگر دلدل سے واسطہ پڑجائے تو یہ دوڑنے میں گھوڑوں سے بھی زیادہ پھرتیلے اور تیز ہوتے ہیں اور ان پر سوار ہو کر مجرموں تک پہنچنا اور پکڑنا زیادہ آسان ہوتا ہے کیونکہ زیادہ تر مجرم ان سانڈھوں کے سینگھوں سے ڈر کر خود کو پولس کے حوالے کردیتے ہیں۔ انھیں یہ خوف بھی ہوتا ہے کہ مزاحمت کرنے سے یہ سانڈ بے قابو ہوکر اور خطرناک ہوجائیں گے۔

بلبل اپنے سریلے نغموں کی مدد سے مادہ بلبل کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے




لندن: جرمنی کے محققین نے انکشاف کیا ہے کہ بلبل اپنے سریلے نغموں کی مدد سے مادہ بلبل کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان نغموں میں وہ اپنی صلاحیتوں کو بیان کرتا ہے ۔ 
بین الاقوامی سائنسی جریدے ‘بی ایم سی ایولوشنری بائیولوجی’ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اسی فیصد پرندوں میں اولاد کی پرورش میں نرپرندے کا کردار بہت اہم ہوتا ہے جو مادہ کو انڈے سینے کے دوران کھانا کھلانے اور شکاریوں کے خلاف اپنے گھونسلے کا دفاع کرتا ہے۔ پرندوں میں آواز نکالنے کا نظام بہت ترقی یافتہ ہے، وہ آپس میں بامعنی گفتگو کرتے ہیں اور اپنی بات آسانی سے دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پرندے آوازیں سیکھتے اور انہیں یاد رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس کا اظہار کرتے ہیں۔
جرمنی کی فرائی یونیورسٹی سے منسلک ماہرین کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بلبل کا سریلا نغمہ دراصل اپنی مادہ کی توجہ مبذول کرانے کے لئے ہوتا ہے۔ بلبل میں عام طور پر180 چھوٹے چھوٹے گانے دہرانے کی صلاحیت ہوتی ہے، اس کے علاوہ بلبل اپنے گیتوں میں بھنبھناہٹ کی 250 الگ الگ آوازیں، الاپ اور سیٹیاں بھی شامل کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق نربلبل اپنے گیتوں کے ذریعے مادہ کے سامنے خود کو پرکشش ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بڑی عمر کے بلبل میں نغمے کو گانے کی صلاحیت زیادہ بہترہوتی ہے۔ وہ اپنے گیت میں اپنےتجربے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ وہ گھونسلہ بنانے میں بہتر ہے اور خوراک کی جگہوں اور پر خطر مقامات کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کہاں خوراک مل سکتی ہے۔ مادہ بلبل اپنے بچوں کو پرکشش خصوصیات دینے کے لیے صحت مند ساتھی کا انتخاب کرتی ہے تاکہ ایک اچھا خاندان تشکیل دیا جائے۔ اس کے لئے مادہ بلبل اچھے باپ بننے کی خصوصیت کو اس کے گانے کی مہارت سے پرکھتی ہے۔
حوالہ خبر